دبئی ، متحدہ عرب امارات سے نمائندہ خصوصی معین صمدانی کی رپورٹ ۔پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کی نیاز مسلم لائبریری میں کم عمر اور نوجوان طلبہ و طالبات کے لیے ادبی سرگرمیوں کا اغاز انتہائی مثبت اور جامع عمل ہے.

نیاز مسلم لائبریری میں زیک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ کے بچوں نے کہانی کی پڑھت پیش کی.
‘آؤ کہانی سنیں’ کے اس سلسلے کے تحت کہانی ‘بڑے ماموں کا چاند نگر’ پیش کی گئی جس کی مصنفہ لاہور سے تعلق رکھنے والی افسانہ نگار کنول بہزاد ہیں. کنول بہزاد کی کہانیاں بچوں کو نہ صرف اپنی تہذیب اور ثقافت سے جوڑتی ہیں بلکہ ان میں زبان و بیان کی خوبصورتی اردو سے محبت پیدا کرتی ہے.
کہانی عقیدت اسلم نے انتہائ نرم اور دلکش لب و لہجے میں سنائ جب کہ کہانی کے کردار سارا، ماہ نور، انثیہ، جہانیہ، شاہ جہاں، ہادی اور منان بھرپور صوتی تاثرات اور ڈرامائ پڑھت سے ادا کر رہے تھے. کہانی میں دلچسپی کا عنصر مزید بڑھانے کے لئے کائنہ چوہدری نے ویژول پریزنٹیشن بھی پیش کی.

اس سرگرمی کا مقصد بچوں میں کتاب سے محبت اور کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانا ہے اور کہانیوں کے ذریعے ان کے تجزیاتی شعور اور ان کی تخلیقی صلاحیات کو ابھارنا ہے. اس سلسلے کے تحت زیک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ دبئی نے اپنے ‘بک کلب’ کی پہلی کارکردگی پیش کی جبکہ انے والے دنوں میں انگریزی کی کہانیاں بھی پیش کی جائیں گی. انگریزی سلسلے کے تحت انگریزی نظموں کی Rhapsody بھی اس سلسلے کا حصہ ہو گی. پہلے مرحلے میں جن دو بچیوں، صوفیہ شاہد اور لائبہ سہیل نے Rhapsody کو پیش کیا انہوں نے اپنی تخلیق کردہ نظمیں پڑھ کر سنائیں جس سے تمام حاضرین بے حد متاثر ہوئے.

یوم آزادی کے موقع کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں نے پاکستان سے محبت کا بھرپور اظہار بھی کیا. زیک انٹرنیشنل کے طالب علم ہادی اور انگلش لینگویج سکول کی طالبہ زنیرہ نے خوبصورت تقاریر پیش کیں جبکہ جہانیہ نے ‘سونی دھرتی اللہ رکھے’ گا کر حاضرین میں وطن کی محبت کا جذبہ اجاگر کیا.
اس پروگرام میں والدین نے بہت ذوق و شوق سے شرکت کی اور بچوں کی تمام کارکردگی کو بے حد سراہا.
پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کی نیاز مسلم لائبریری میں زیک انٹرنیشنل کی پرنسپل اور ڈائریکٹر محترمہ نبراس سہیل صاحبہ، جو خود بھی ایک مصنفہ ہیں، نے یہ پہلا پروگرام پیش کیا. ان کے مطابق دبئ کے ادبی منظر نامے میں پاکستان کے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کے لئے سکول کے سٹیج کے علاوہ ایسے پلیٹ فارم اور مواقع موجود نہیں کہ جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیات کا اظہار کر سکیں. آنے والے دنوں میں وہ بہت سے ایسے منصوبے رکھتی ہیں کہ جن کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کے فنی جوہر نکھارے جائیں گے، ان میں کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھایا جائے گا اور ان کی تخلیقی صلاحیات کو ابھارا جائے گا. آئندہ نہ صرف زیک انٹرنیشنل بلکہ دیگر سکولوں اور اداروں سے بھی بچوں کو مدعو کیا جائے گا.









