بیرون ملک پاکستانی حقیقی معنوں میں ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ مملکت خداداد پاکستان ان محب وطن پاکستانیوں کو قدر و احترام کی نظر سے دیکھتی ہے ۔ امریکہ ، یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت دنیا بھر میں موجود پاکستانی دیار غیر میں رہ کر بھی اپنے ہم وطنوں کو آزمائش اور مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ یاد رکھتے ہیں ۔ یادش بخیر! پاکستان میں 2005 کے قیامت خیز زلزلے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے ۔ ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع اور خطیر مالی نقصان نے وطن عزیز کے ہر شہری کو شدید دکھ اور کرب میں مبتلا کر دیا تھا ۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ کی طرح ناقابل فراموش تھا ۔ اندرون ملک بھی پاکستانیوں نے زلزلہ زدگان کی بحالی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی عالمی تنظیم ہیلپنگ ہینڈ نے اس موقع پر ریلیف اور بحالی کے عمل میں اپنا بھرپور اور مثالی کردار ادا کیا تھا۔ انسانی تاریخ میں ایسے اداروں کے نام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھے جاتے ہیں جو بنی نوع انسان کی بہبود، ان کے دکھوں کے مداوا اور ان کی ترقی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔اس ادارے نے اپنی خدمت کے بیس سالہ شاندار سفر میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انسانیت کی بہتری کے لیے قابلِ رشک خدمات انجام دی ہیں۔ ایسے بے لوث اور مثالی اداروں کو ان کی شاندار خدمات اور کارکردگی پر نوبل ایوارڈ ملنا چاہیے ۔یہی ادارے اس ایوارڈ کے حقیقی معنوں میں مستحق ہیں ۔ حکومت پاکستان کو بھی اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو سراہنا چاہیے ۔ اسی تناظر میں چند روز قبل مجھے ہیلپنگ ہینڈ پاکستان کے صدر جناب محمد سلیم منصوری سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اپنی بیسویں سالگرہ پر ایک ایسی عظیم داستان رقم کر چکا ہے جس کے ہر باب میں محبت، ہمدردی، ایثار اور مسلسل جدوجہد کے نقوش نمایاں ہیں۔ ہم نے 2005 میں پاکستان میں زلزلہ زدگان کی مدد اور بحالی سے اپنا ریلیف کا کام شروع کیا تھا اور اب عوامی ریلیف و ڈویلپمنٹ کا یہ بے لوث کام پاکستان بھر میں بڑے دائرے میں پھیل گیا ہے ۔ ادارے کا پاکستان میں قیام بیس سال قبل چند ایسے ہمدرد اور حساس دل رکھنے والے افرادکے ہاتھوں عمل میں آیا جن کے دلوں میں انسانیت کے دکھوں کے احسا س نے جنم لیا تھا۔ ان کا بنیادی نصب العین یہ تھا کہ وہ معاشرے کے پسے ہوئے، محروم اور پسماندہ طبقات کی مدد کو اپنا شعار بنائیں گے۔ ان کا یہ فلسفہ تھا کہ ہر انسان کی زندگی میں بنیادی ضروریات کی فراہمی اس کا حق ہے اور اس حق سے کسی کو محروم نہیں رہنا چاہیے۔ چنانچہ ایک چھوٹے سے آغاز کے ساتھ، چند رضاکاروں پر مشتمل یہ مہم آج پورے پاکستان کے 132 اضلاع میں تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ افراد تک اپنی خدمات پہنچا چکی ہے۔ یہ تعداد اس کی مقبولیت، دیانت داری اور کام میں درستی کی واضح دلیل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ادارے کی خدمات کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کے چاروں صوبوں یعنی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اپنی مفت خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں بھی اپنے مراکز قائم کیے ہیں جہاں تک عام فلاحی اداروں کی رسائی بھی مشکل ہوتی ہے۔ یہ ادارہ ہر اس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جہاں انسانیت سہولیات سے محروم ہے، چاہے وہاں تک پہنچنے کے لیے کتنی ہی دشوار گزار راہیں طے کرنی پڑیں۔ڈویلپمنٹ کی بیس سالہ خدمت انسانیت کے لیے ایک روشن چراغ کی مانند ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لایا ہے بلکہ معاشرے میں خدمتِ خلق کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ یتیم بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا، معذور افراد کو خود انحصار بنانا، نوجوانوں کو تعلیم و ہنر سے آراستہ کرنا، خواتین کو بااختیار بنانا اور پسماندہ علاقوں میں صحت و صاف پانی کی سہولیات پہنچانا اس ادارے کے عظیم کارنامے ہیں۔ اسکا یہ سفر دراصل پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا سفر ہے۔ اس ادارے کی کامیابی پر پوری قوم کو فخر ہے اور امید ہے کہ آنے والے وقت میں یہ ادارہ اپنے مشن میں مزید کامیابیاں سمیٹے گا ۔ انہوںنے مجھے مزید بتایا کہ اس ادارےکا ایک اور قابلِ ستائش شعبہ “معذور بچوں کے پروگرام” کے تحت کام کر رہا ہے۔ معاشرے میں معذور افراد کو عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، لیکن ہم نے ان کی بحالی اور انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں۔ ادارے کے تحت 2ہزارسے زائد معذور بچوں کو جدید ترین تھراپی اور بحالی کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔قصہ مختصر! اس ادارے نے ہر اس موقع پر اپنی خدمات کا ثبوت دیا ہے جب ملک کو کسی قدرتی آفت کا سامنا رہا ہے۔ چاہے وہ 2005 کا زلزلہ ہو، 2010 اور 2022 کے سیلاب ہوں یا کوئی اور قدرتی آفت، یہ عظیم فلاحی ادارہ ہمیشہ اولین صف میں موجود رہا ہے۔ اس فلاحی ادارے کی کامیابی کا راز اس کے رضاکاروں کے جذبہ خدمت میں پنہاں ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اس ادارے سے وابستہ ہیں جو اپنا قیمتی وقت، صلاحیتیں اور توانائیاں انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ ان رضاکاروں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ پیشہ ورانہ طریقے سے خدمات سرانجام دے سکیں۔ اپنی بیسویں سالگرہ پر یہ ادارہ مستقبل کے لیے نئے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اسکی بیس سالہ خدمت انسانیت کے لیے ایک روشن چراغ کی مانند ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لایا ہے بلکہ معاشرے میں خدمتِ خلق کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔
Contact Information
Office B-12, Commercial Plaza Canal View Society, Lahore, Pakistan

